Ticker

6/recent/ticker-posts

”لڑکی کرے یا لڑکا ، قران پاک کا یہ ایک لفظ پڑھو ، ایک ہفتے میں انشا اللہ شادی ہو جائے گی“

 

”لڑکی کرے یا لڑکا ، قران پاک کا یہ ایک لفظ پڑھو ، ایک ہفتے میں انشا اللہ شادی ہو جائے گی“

لڑکی ہو یا لڑکا، قرآن پاک کا یہ ایک لفظ پڑھ لیں، ایک ہفتے میں انشاء اللہ آپ کی شادی ہو جائے گی۔ یہ اللہ الصمد کا وظیفہ ہے۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ اللہ بہت محتاج ہے اور بے شک میرا اللہ ہی ایک ہے۔ یہ ایک ایسا وظیفہ ہے جو ہر کسی سے پاک ہے اور جو شخص اس اسم کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے تمام پریشانیوں سے آزاد کر دے گا۔


اور اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ حضرت عبداللہ بن زیدؓ کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ ایک عظیم صوفی بزرگ تھے اور ان پر محبت اور جذبہ کا غلبہ تھا اور اسی غلبے کی وجہ سے حضرت نے شادی بھی نہیں کی تھی اور وہ زیادہ خواب دیکھتے تھے کہ میں یہ اہم ہوں۔ میں سنت ادا کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ جب وہ بوڑھے ہوئے تو ذکر ہے کہ بیٹھ کر کتاب پڑھ رہے تھے۔ اس نے کتاب میں کیا پڑھا؟ نکاح ہوا اور وہ مسلمان فوت ہوگیا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، وہ لڑکا تھا یا لڑکی، کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ان کی شادی جنت میں کرے گا، چنانچہ جب اس نے یہ مبارک حدیث پڑھی تو اس کے دل میں خیال آیا۔ دل


چلو ہم نے یہاں شادی نہیں کی بلکہ جنت میں ہوگی، تو پتہ نہیں جنت میں میری بیوی کون ہوگی، بڑے لوگ، بڑی باتیں، کتابوں میں لکھا ہے کہ پہلے دن، اس نے اپنے اللہ سے دعا کی کہ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جنت میں نکاح لازم ہے تو یہاں نہیں ہوا پھر جنت میں لازم ہے تو اے میرے خدا مجھے دکھا دے کہ جنت میں میرا شریک کون ہو گا؟ . پھر اسے قبول نہیں کیا گیا۔ جب تیسری رات نماز پڑھی تو خواب میں کیا دیکھا کہ ایک عورت ہے اور کہہ رہی ہے کہ میں میمونہ ولید ہوں اور بصرہ میں رہتی ہوں؟ وہ بیدار ہوا اور تہجد کا وقت تھا۔ فجر کی نماز باجماعت ادا کی اور سواری لے کر بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بصرہ کے لوگوں نے حضرت کا خوب استقبال کیا۔ وہ سب اسے جانتے تھے اور اس سے پوچھا کہ وہ اچانک کیسے آگیا؟


کوئی کام تھا تو حضرت نے فرمایا کہ بتاؤ تمہارے بصرہ میں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ ایسے ولی اللہ ہیں اور اس دیوان سے ملنے اتنی دور آئے ہیں۔ اس نے کہا یہ کیوں؟ وہ کسی کو نہ مل سکے تو بصرہ والوں نے کہا کہ حضرت یہ تو دیوانہ ہے، دیوانہ ہے، لوگوں نے اسے پتھر مارے، تو آپ نے پوچھا کہ اسے کیوں مارا، تو کہنے لگے، حضرت اگر کوئی روتا ہے تو وہ شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر مسکراتے ہوئے. کوئی مسکراتا ہے تو اسے دیکھ کر رونے لگتا ہے، اسی لیے لوگ اسے پتھر مارتے ہیں اور وہ مزدوری کے پیسے لے کر ہماری بکریاں چرا لیتی ہے اور آج بھی وہ ہماری بکریوں کو جنگل میں لے گئی ہے اور وہ عصر کے بعد آئے گی۔ جب وہ آئے گی تو تم اس سے ملو گے اور وہ ایسی پاگل لڑکی ہے اور اسے مزدوری دینے والے بکریاں چرانے کے لیے جتنی ضرورت پڑتی ہے رکھ لیں گے۔


اور باقی ساری رقم وہ اللہ کی راہ میں صدقہ کرتی ہے۔ وہ عصر کے بعد آئے گی تو تم اس سے ملو گے۔ اس نے کہا بھائی بتاؤ عصر کس نے دیکھی ہے تم لوگ ذرا یہ بتاؤ کہ وہ جنگل میں کس طرف گئی تھی۔ حضرت نے فرمایا کہ جنگل بہت خوفناک ہے۔ حضرت نے پھر اصرار کیا تو لوگوں نے راستہ بتایا تو آپ نے فرمایا کہ میں وہاں سے اس جنگل کی طرف چل پڑا اور جب اس جنگل کے اندر گیا تو دیکھا کہ یہ بڑا خوفناک جنگل ہے جو شیروں، بھیڑیوں اور چیتے سے بھرا ہوا ہے۔ ان کے کیڑے بھی ڈھیر ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ میں یہ سب دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ بہت بہادر بچہ ہے جو اتنے خوفناک جنگل میں بکریاں چراتا ہے۔ جب آپ وہاں پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ جب میں وہاں پہنچا تو دو انتہائی حیران کن مناظر تھے۔ پہلا کیا تھا؟ میمونہ ولید بکریاں چرانے آئی تھی لیکن وہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔


بلکہ وہ اس جنگل میں کیا کر رہی تھی، مسجد بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی، یہ بکریاں میمونہ ولید کے لیے لوگوں سے چھپنے کا صرف ایک بہانہ تھیں، بصرہ کے لوگ صرف اتنا جانتے تھے کہ میمونہ بکریاں چرانے جنگل گئی تھی، لیکن میمونہ نے وہاں کیا کیا؟ وہ یاد الٰہی میں مصروف تھی، اس نے کہا، مجھے بہت تعجب ہوا اور دوسری حیرت انگیز بات یہ تھی کہ میمونہ نوافل پڑھ رہی تھیں اور بکریاں چرا رہی تھیں۔ شیر ان کے اردگرد پہرہ دے رہے تھے اور اگر کوئی بکری بھاگ کر دیوار کو توڑ دیتی تو شیر اسے نہیں کھاتا بلکہ واپس اسی دیوار میں لے آتا۔ اسے شروع کریں اور انہیں مدد کیسے ملی؟


اور انہوں نے مجھے بلایا اور کہنے لگے کہ اے عبداللہ، ہمارا ملنے کا وعدہ جنت کے لیے تھا، تم یہاں آئے ہو، تو کہنے لگے، مجھے بہت تعجب ہوا، میمونہ اور میں اس سے پہلے کبھی نہیں ملے، اور اسے یہ کیسے معلوم ہوا؟ کہنے لگے میرا نام عبداللہ ہے۔ میں نے حضرت میمونہؓ سے پوچھا کہ آپ اور میں پہلے کبھی نہیں ملے، تو آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا؟ آپ کا کیا جواب تھا؟ جب میں نے آپ کو بتایا تو اللہ نے بھی آپ کے بارے میں بتایا تو آپ کہتی ہیں، میں نے پھر سوال کیا، میمونہ، یہ بتاؤ کہ فطرت کیسے بدلی، شیروں اور بکریوں میں صلح کیسے ہوئی اور شیر کب سے بکریاں چرانے لگے؟ ? تو اس دن سے ان شیروں نے میری بکریوں سے صلح کر لی سبحان اللہ اس کا کیا مطلب ہوا؟


کہ جب سے میں نے اللہ کو پایا، اللہ نے مجھ پر رحم اور کرم کیا۔ توصیفہ یہ ہے کہ روزانہ کسی بھی نماز کے بعد اول و آخر درود پاک کے ساتھ 7 بار اللہ الصمد پڑھیں۔ انشاء اللہ اچھا رشتہ ہو گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے